12 نومبر 2017 - 16:17
یورپی یونین کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں ایران کی شمولیت کی حمایت

یورپی یونین کے زراعت اور دیہی ترقی کے کمشنر نے کہا ہے کہ ہم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں اسلامی جمہوریہ ایران کی شمولیت کی حمایت کرتے ہیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یورپی یونین کے زراعت اور دیہی ترقی کے کمشنر نے کہا ہے کہ ہم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں اسلامی جمہوریہ ایران کی شمولیت کی حمایت کرتے ہیں.

يہ بات 'فيل ہوگان' نے ہفتہ كے روز ايراني وزير زراعت 'محمود حجتي' كے ساتھ ايك مشتركہ نشست ميں خطاب كرتے ہوئے كہي.

اس موقع پر انہوں نے يورپي يونين كے زراعت اور ديہي ترقي اور ايران كے درميان دستخط ہونے والے معاہدے كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ يہ معاہدہ زراعت كے شعبے ميں باہمي تعاون كي ترقي كے ليے ايك نيا باب ہے.

ہوگان نے كہا كہ جوہري معاہدہ ايك بين الاقوامي سمجھوتہ ہے جو 12 سال كے مذاكرات كے بعد ان پر دستخط ہوگيا اسي لئے تمام فريقون كو اس پر قائم رہنا چاہيئے.

انہوں نے بينكاري ركاٹوں كے حوالے سے كہا كہ ہم نے جوہري معاہدے كے بعد ايسي ركاوٹوں كو دور كرنے كے لئے بھرپور كوششيں كي مگر يورپي يونين كے ايسے بحران كے حل كے لئے سات سال لازمي ہے.

انہوں نے مزيد كہا كہ ايراني بينكوں كو بين الاقوامي معياروں كے مطابق عمل كرنا چاہيئے كيونكہ ايران ہماري طرح بينكوں كي عالمي فيڈريشن كے ايك ركن ہے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ايران اور يورپ كے درميان باہمي تعاون، زراعت اور فوڈ سيكورٹي شعبوں كے لئے ايك نيا موقع ہے اسي لئے ديہي علاقوں كے كسانوں ترقي اور روزگار كے مواقع سے فائدہ اٹھ سكتے ہيں.

يورپي يونين كے زراعت اور ديہي ترقي كے كمشنر نے كہا كہ ايراني اور فرانسيسي كمپنيوں كے درميان بيج كي پيداواري، يورپي يونين اور ايران كے درميان كھانے كي صنعت پر دستخط ہونے والے معاہدے زراعت اور كھانے كے شعبوں ميں عملي اقدامات ہيں.

اس اجلاس كے دوران ايراني چيمبر آف كامرس كے چيئرمين 'مسعود خوانساري' نے جوہري معاہدے كے بعد ايران اور يورپي يونين كے تجارتي تبادلات كے حجم كو 60 فيصد كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ يورپي يونين ايران كي سب سے دوسري بڑي برآمد كرنے والي ماركيٹ ہے.

خوانساري نے كہا كہ ايراني زراعت كي پيداواري كا حجم 10 كرور سے زائد ہے جو دوسرے ممالك كو برآمد كي جاتي ہے.

تفصيلات كے مطابق، يورپي يونين كے زراعت اور ديہي ترقي كے كمشنر 'فيل ہوگان' كي قيادت ميں 70 ركني اقتصادي وفد ہفتہ كے روز ايراني دارالحكومت تہران پہنچ گئے ہيں جس ميں زراعت، فوڈ انڈسٹري اور ديہي ترقي كے 25 اعلي حكام موجود ہيں.

اس وفد كے ايران دورے كا مقصد موجودہ صلاحيتوں كا جائزہ لينا اور زراعت كے شعبے ميں دو طرفہ باہمي تجارتي تعاون كو فروغ دينا ہے.

ياد رہے كہ يورپي يونين كے زراعت اور ديہي ترقي كے كمشنر اور ايراني وزير زراعت كي موجودگي ميں باہمي زراعتي تعاون، ايران اور فرانس كے نجي شعبوں كے درميان مشتركہ مكئي اور سورغم كے بيج كي پيداواري كے حوالے سے باہمي معاہدوں پر دستخط ہوگئے ہيں.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲